حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، استاد محمدباقر تحریری، متولی مدرسہ علمیہ مروی تہران نے کہا ہے کہ ماہِ مبارک رمضان نفس کی پاکیزگی، کوتاہیوں کی تلافی اور روحانی ارتقا کا بہترین موقع ہے۔
انہوں نے مدرسہ علمیہ معیر میں درسِ اخلاق کے دوران اہلِ تقویٰ کی صفات بیان کرتے ہوئے کہا کہ متقی انسان ظلم اور سختیوں کے مقابل صبر اختیار کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ ظالم سے انتقام لیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صبر کا مطلب بے عملی نہیں بلکہ تدبیر، عقل مندی اور منصوبہ بندی کے ساتھ ظلم کا مؤثر مقابلہ کرنا ہے۔
استاد تحریری نے کہا کہ صبر انفرادی، سماجی اور سیاسی زندگی میں یکساں اہمیت رکھتا ہے۔ مؤمن اپنے الٰہی ہدف کو پیش نظر رکھتے ہوئے وقتی دباؤ کو برداشت کرتا ہے۔ انہوں نے روزے کو صبر کی عملی مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ انسان ماہِ رمضان میں حلال امور سے بھی اجتناب کر کے اپنے نفس کو تربیت دیتا ہے۔
انہوں نے آیت «یا أیها الذین آمنوا اصبروا و صابروا» کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مؤمنین کو ایک دوسرے کو صبر و استقامت کی تلقین کرنی چاہیے اور ظلم کے مقابل مشروع ذرائع سے حق کا دفاع کرنا چاہیے۔ ان کے بقول صبر کے ساتھ اجتماعی مفاد اور شرعی حدود کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ درگزر، دوسروں کے حقوق کا احترام اور عدل و انصاف اہلِ تقویٰ کی نمایاں خصوصیات ہیں۔ استاد تحریری نے ماہِ شعبان کے باقی ایام کو غنیمت جانتے ہوئے دعا، استغفار، تلاوتِ قرآن اور اہلِ بیتؑ سے توسل کے ذریعے رمضان کی تیاری کی تاکید کی۔









آپ کا تبصرہ